ہمیں قتل مت کرو – خواتین کی اپیل!
خواتین کے حقوق اور خواتین کی تحریکیوں تحاریک کے پس منظر میں دنیا بھر کے اخبارات اور ادارتی صفحات پر جو خطہ سب سے زیادہ گونج رہا ہے، ان میں لاطینی امریکہ سرفہرست ہے۔ میکسیکو سے لے کر ارجنٹینا تک، سڑکوں پر نکلنے والی لاکھوں خواتین کا طوفان، ریاستی اور حکومتی بے حسی اس بات کا ثبوت ہے کہ صنفی تشدد اب ایک ایسے ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، لاطینی امریکہ میں فیمیسائڈ Femicide (خواتین کا صنف کی بنیاد پر قتل) کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے جواب میں اب عام خواتین نے خود اپنا تحفظ کرنے کے لیے ایک انوکھا اور زبردست نظام ترتیب دے لیا ہے۔
لاطینی امریکہ میں خون میں ڈوبی فضا
جب ہم حقائق اور اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں تو صورتحال انتہائی تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کی اقتصادی کمیشن برائے لاطینی امریکہ اور کیریبین (ECLAC) کی رپورٹس کے مطابق، اس خطے میں ہر سال ہزاروں خواتین کو محض اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق صنفِ نازک سے ہے۔
میکسیکو کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، روزانہ اوسطاً 10 سے زائد خواتین کو قتل کیا جاتا ہے، جن میں سے اکثریت ان کے اپنے قریبی رشتہ داروں یا شریکِ حیات کے ہاتھوں ہوتی ہے۔
ارجنٹینا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، جہاں ہر 30 سے 35 گھنٹے کے اندر ایک فیمیسائڈ کا دل دہلا دینے والا واقعہ رپورٹ ہوتا ہے۔
برازیل اور کولمبیا جیسے ممالک میں گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والے واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار صرف کاغذ پر موجود ہندسے نہیں ہیں، بلکہ یہ ان ہزاروں گھرانوں کی کہانیاں ہیں جو انصاف کی دہلیز پر دم توڑ چکی ہیں۔
حکومتی بے حسی اور "جسٹس گیپ”
ایک طرف جہاں سڑکوں پر "Ni Una Menos” (یعنی "ایک بھی خاتون کم نہیں”) اور "ہمیں مزید قتل مت کرو” کے نعرے گونجتے ہیں، وہیں دوسری طرف حکومتی اور عدالتی مشینری کی سستی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ پولیس کا رویہ اکثر تضحیک آمیز ہوتا ہے، اور عدالتوں میں مقدمات برسوں التواء کا شکار رہتے ہیں۔
عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ میں مجرموں کی سزا یابی کی شرح (Impunity Rate) خطرناک حد تک بلند ہے۔ یعنی تقریباً 80 سے 90 فیصد مقدمات میں قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہی نہیں جاتا۔ ریاست کی اس مجرمانہ غفلت اور ناکامی نے خواتین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر وہ خود اپنی ڈھال نہیں بنیں گی، تو ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہوگا۔
خواتین کا خفیہ اور زبردست دفاعی نظام
لاطینی امریکہ کی دلیری اور مضبوط ارادوں سے بھرپور خواتین نے اس اندھیرے میں روشنی کی کرن تلاش کرتے ہوئے ایک انتہائی منظم، مضبوط اور نچلی سطح پر مواصلاتی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔
زیرِ زمین اور ڈیجیٹل سیفٹی نیٹ ورکس (Underground Digital Networks)
خواتین نے اب روایتی پولیس یا ایمرجنسی نمبروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے خفیہ انکرپٹڈ میسجنگ گروپس اور لوکیشن شیئرنگ ایپس بنا رکھی ہیں۔ جیسے ہی کسی محلے میں کسی عورت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے، ایک سیکنڈ کے اندر اس کے قریبی فیمینسٹ نیٹ ورک کو الرٹ چلا جاتا ہے۔ درجنوں خواتین منٹوں میں اس مقام پر پہنچ کر نہ صرف متاثرہ خاتون کو محفوظ بناتی ہیں بلکہ حملہ آور کو گھیر لیتی ہیں۔
"سسٹر ہوڈ واچ” اور گلی محلوں کی پہرے داری (Barrio Watch)
ارجنتینا اور میکسیکو کی غریب بستیوں اور متوسط طبقے کے علاقوں میں خواتین نے "سسٹر ہوڈ واچ” (Sisterhood Watch) کے نام سے پہرے دار ٹولیاں بنا رکھی ہیں۔ رات کے اوقات میں کام سے واپس لوٹنے والی خواتین کو محفوظ طریقے سے ان کے گھروں تک پہنچانا اس نظام کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، خطرناک سمجھے جانے والے علاقوں میں گھروں کے باہر مخصوص علامات یا نشانات بنائے جاتے ہیں تاکہ آنے والی خواتین کو خطرے سے پہلے ہی خبردار کیا جا سکے-
خود دفاعی تربیتی کیمپ (Self-Defense Collectives)
اب لاطینی امریکہ کے گلی کوچوں میں فیمینسٹ کلچرل سینٹرز کے اندر باقاعدہ خود دفاع (Martial Arts and Self-Defense) کی تربیت دی جا رہی ہے۔ لاکھوں نوجوان لڑکیاں اور خواتین مارشل آرٹس، کیراٹے اور خطرناک حالات سے نبرد آزما ہونے کے گر سیکھ رہی ہیں تاکہ بوقتِ ضرورت وہ اپنی جان کا دفاع خود کر سکیں۔

مزاحمت کی نئی علامت
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ لاطینی امریکہ کی فیمینسٹ تحریک اب صرف نعرے بازی تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک عملی اور دفاعی انقلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون اندھا اور بہرہ ہو جائے، تو معاشرے کی مظلوم ترین اکائی کا خود کو منظم کرنا تاریخ کا ایک طاقتور باب بن جاتا ہے۔
خواتین کی یہ خاموش مگر زبردست بغاوت ریاست کو یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ یا تو وہ اپنا نظامِ انصاف درست کرے، ورنہ خواتین اپنے تحفظ کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لینے سے بالکل نہیں گھبرائیں گی۔ "ہمیں مزید قتل مت کرو” کا یہ نعرہ اب صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ آنے والے وقت کے ایک نئے، مساوی اور محفوظ معاشرے کی بنیاد بن چکا ہے۔
